“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْللِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي”.
“اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ!
میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں
بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہ§ری ستر پوشی
فرما۔ اے اللہ! ہ§ری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و
خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہ§ری حفاظت فرما آگے
سے اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت
کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا
جاؤں”۔
سنن ابن ماجة: 3871 ،وصححه الألبا> – صحيح ابن ماجه:3135
Copyright © Sirajum Munira 2022. All rights reserved
Designed by One Path Solutions
اس کے سوا کسی کی عبادت کا حق نہیں، وہ ہمیشہ زندہ ہے، جو موجودات کو برقرار رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین پر ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس شفاعت کر سکے؟ وہ جانتا ہے کہ ان کے ساتھ اس دنیا میں کیا ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کریں گے سوائے اس کے جو وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور وہ ان کی حفاظت اور حفاظت میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ اور وہ سب سے بلند اور عظیم ہے۔
اموال یوم واللیلۃ نمبر # 967 اور صحیح التراغیب # 662