جبرائیل علیہ السلام میرے پاس سال میں ایک بار قرآن کی تجدید کے لیے آتے تھے۔ اس سال اس نے میرے ساتھ دو بار نظر ثانی کی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کا کوئی مطلب ہے لیکن یہ کہ میری مدت ختم ہو جائے گی

صحيح البخاري: ٣٣٧٦

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *